Dubizzle پر ملیبیچنے والے کی سائٹ پر دیکھیں ↗
2025 Nissan Patrol LE Platinum City
AED 295,000
67,500 km
GCC
Dubai
پرائیویٹ سیلر
اہم وجوہات (3)
میٹر پر 67,500 کلومیٹر۔ یعنی تقریباً 67,500 کلومیٹر سالانہ۔
GCC اسپیک — خلیجی مارکیٹ کے لیے بنی۔
نئی فہرست (1 دن) — آپ اسے جلد دیکھ رہے ہیں، جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ ناپسندیدہ ہے یہ کہنے کی گنجائش کم ہے۔
سب سے بڑے خطرات
سالانہ بھاری استعمال (~68k km فی سال)
تفصیلات دیکھیں
دیکھنے سے پہلے پوچھیںGCC اسپیسیفکیشننجی بیچنے والاماخذ کی تصدیق شدہ
ملا جلا کیوں: Nissan Patrol قابلِ اعتماد ہونے کی مضبوط شہرت رکھتی ہے · پرزے سستے ہیں اور متحدہ عرب امارات میں عام دستیاب ہیں
ماہانہ کتنا خرچ آئے گا؟
وہ فلیٹ ریٹ استعمال کریں جو آپ کے بینک نے بتایا۔ امارات کے قواعد: کم از کم 20% ڈاؤن پیمنٹ، زیادہ سے زیادہ 60 ماہ۔
ماہانہ اندازہ دیکھنے کے لیے اپنے بینک کا فلیٹ ریٹ درج کریں۔
منصوبہ بندی کے لیے اندازہ، قرض کی پیشکش نہیں۔ SAVVO فنانس کا انتظام نہیں کرتا۔ بینک یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آپ کا کل ماہانہ قرض تنخواہ کے تقریباً نصف کے اندر رہے۔
اس گاڑی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں
صرف وہ حقائق جو یہ اشتہار واقعی بتاتا ہے۔ جو بیچنے والے نے نہیں بتایا وہ اندازہ لگانے کے بجائے چھوڑ دیا گیا ہے۔
بنیادی حقائق
ٹرمLE Platinum City
علاقائی اسپیکGCC
باڈی ٹائپSUV
ٹرانسمیشنآٹومیٹک
ایندھنPetrol
انجن3500 - 3999 cc (6cyl)
نشستیں7
بیچنے والا
بیچنے والے کی قسمPrivate
مقام
مقامDubai
ماخذ
مارکیٹ پلیسDubizzle
سبز گریڈ اشتہار کی قیمت، کلومیٹر اور تفصیلات کو ملتی جلتی گاڑیوں سے ملا کر دیکھتا ہے۔ یہ مکینک کا معائنہ نہیں۔ گاڑی اور اصل ملکیہ ہمیشہ خود دیکھیں۔ خریدنے سے پہلے ایسے مکینک سے چیک کروائیں جس کا بیچنے والے سے تعلق نہ ہو۔
یہ گریڈ کیوں؟
خوبیاں
Nissan Patrol قابلِ اعتماد ہونے کی مضبوط شہرت رکھتی ہے
پرزے سستے ہیں اور متحدہ عرب امارات میں عام دستیاب ہیں
اس اشتہار میں خطرات (اشتہار / اس کے ڈیٹا سے)
سالانہ بھاری استعمال (~68k km فی سال)
اس ماڈل کے بارے میں عام باتیں (ضروری نہیں کہ اس گاڑی پر سچ ہوں)
اس ماڈل میں چیک کریں: Heavy fuel consumption; Air suspension faults on older units
آپ کے اگلے قدم
محفوظ نوٹس اسی آلے کے اس براؤزر میں رہیں گے۔ بیچنے والے کا متن اور رپورٹ آپ کی فراہم کردہ معلومات ہیں؛ SAVVO نے ان کی تصدیق نہیں کی۔
